Skip to main content

عورت مارچ کے خوفناک اثرات، ’نکاح ختم کرو‘ کی آوازیں بلند ہونے لگیں

عورت مارچ کے حامی کا کہنا ہے کہ ہم پر انگریزی کی طرح نکاح بھی مسلط کیا گیا،یہ معاملہ بہت آگے تک جا سکتا ہے،اسکے پیچھے بیرونی طاقتیں ہیں جو پاکستانی کی عورتوں کو اسلامی اقدار پامال کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ ماہرین


اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔06 مارچ 2020ء) "عورت مارچ" کے نام پر دینِ اسلام کے خلاف گھناؤنی سازش تیار کی جا رہی ہے۔ ’میرا جسم میری مرضی‘ کی مہم کو لے کر اس وقت سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے جب کہ اس معاملے پر ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان کی خاتون ماروی سرمد کے حوالے سے کی گئی گفتگو کے بعد تو ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔’میرا جسم میری مرضی‘ کی مہم کے حوالے سے لوگوں کی مختلف آراء دیکھنے میں آ رہی ہے۔
سینئر صحافیوں کے مطابق اس مہم کے پیچھے غیر ملکی طاقتیں ملوث ہیں جو باقاعدہ عورت مارچ کے لیے فنڈنگ کر رہی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ عورت مارچ کے مقاصد ایسے ہیں جو عام انسان تو سوچ بھی نہیں سکتا،اگر اس کو وقت پر لگام نہ ڈالی گئی تو یہ معاشرے کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
گر گذشتہ سال ہونے والے عورت مارچ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں لگے بینرز اور شرکاء کے نظریات سوچ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ اس بار عورت مارچ میں جو کچھ ہو گا،وہ پچھلے سال منعقد ہونے والے عورت مارچ سے کئی زیادہ منفی اثرات چھوڑے گا۔ایک ویڈیو بھی اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جو گذشتہ سال کی ہے،اس میں شریک ایک فرد کا کہنا ہے کہ مارچ میں ہر طبقے کی عورت ہے،یہاں لیاری اور لانڈھی سے بھی خواتین موجود 
ہیں،یہ ایک خوش آئند بات ہے،انہیں آمدنی دیکھے بغیر نمائندگی دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ جب تک نکاح کو ختم نہیں کریں گے،یہ نا انصافیاں، ظلم اور تشدد جاری رہے گا۔اس متعلق کسی نے آج تک کوئی بات نہیں کی،مذکورہ شخص نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں پہلے نکاح نہیں ہوتا تھا،1825 میں انگریزوں نے نکاح نافذ کیا،جس طرح ہم پر انگریزی مسلط کی گئی اسی طرح نکاح مسلط کیا گیا۔

Comments